مرادوں کے چراغ

0

سوچوں کے مجمعے میں خیالات ارادے اور موضوعات دل کے اندرونی علاقہ جات میں ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں ۔ آج میرے دل نے تہیہ کیا کہ آج صرف ایک موضوع پر قلم اٹھایا جائے ۔ کیوں نہ ایک بہت وسیع موضوعات کو لے کر چلتی ہوئی خوبصورت کتاب ” شہر مراد ” پر تبصرہ کیا جائے ۔ اس کتاب کے خالق شفیق مراد صاحب جو کہ انتہائی نفیس شخصیت و کردار کے حامل انسان ہیں ۔

” شہر مراد ” ان کی شاعری کی کتاب بہت سارے موضوعات کا منبع لئے اپنی پہچان آپ بنتی جا رہی ہے ہر غزل مسحور کن منظر پیش کرتی ہوئ دکھائی دیتی ہے ۔ مجھے ان کی شاعری میں تمام جگہ پر سچائی پختگی شعری محاسن پر مکمل گرفت اور جا بہ جا شیرینی سخن کے عناصر نے بہت محظوظ کیا ۔ شفیق مراد نے کتاب میں شعری صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کر کے سحر انگیز شاعری کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ زمانے کے تلخ تجربات مشاہدات محبت کی شیرینی محبوب سے سوال و جواب کا منظر اوراپنےاحساسات کے دھاگے میں پروکر موضوعاتی شاعری میں رنگ بھرنے کا انداز بہت متاثر کن ہے ۔ قاری کتاب پڑھنا شروع کرے تو یقیناً پوری کتاب پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ شفیق مراد بہت زیادہ داد و تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے جو روشنی اپنی کتاب میں داخل کی ہے اس کی چمک سے کئی دل منور ہونگے ۔

شفیق مراد ایک سنجیدہ موضوع کو لے کر چلیں یا محبت کی مٹھاس کو لے کر چلیں دونوں صورتوں میں الفاظ کا چناؤ انداز بیاں اور مضامین اپنی جگہ پر جادوئی اثر رکھتے ہیں ۔ ساری شاعری صبح کے نکلتے ہوئے سورج کی دھیمی دھیمی آنکھوں کو تر و تازہ کرنے والی کرنوں کی سی کیفیت رکھتی ہے ۔

زھن کی زرخیزی ان کو فروغِ علم و ادب فلاح بہبود عامہ اور چراغ فکر دوراں کے میدان میں برقی رفتار سے لے کر آگے بڑھ رہی ہے ۔ نئی ردیف اور قافیہ جات کا استعمال بھی ان کا خاصہ بن چکا ہے ۔ فلسفیانہ انداز اور صوفی کا رنگ بھی اپنی پوری آب و تاب سے بہت سی جگہ ان کی کتاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔

ایک عرصہ سے یورپ میں مقیم ہونے کے باوجود اپنے وطن کی محبت اور روایات و معاشرت کو اپنے ساتھ ساتھ مشعل راہ بنا کر چلتے ہوئے اس انسان کے بارے میں لکھنے کے لیے بے بہا الفاظ درکار ہوتے ہیں جو ایک تبصرے میں نہیں سمو سکتے۔

شفیق مراد کے چند اشعار مجھے بے حد پسند ہیں جن کا حوالہ نہ دوں تو گفتگو ادھوری رہے گی ۔

مثلاً
رس گھولتی باتیں تھیں سماعت میں ہماری
آنکھوں میں سنورتا گیا الہام کا منظر

اور
کوئی جھوٹا نہیں شفیق مراد
سارے سچے ہیں کیا تماشہ ہے

اور
تھے کتاب زندگی پر نام دونوں کے لکھے
بن گیا وہ داستاں میں داستاں کا اقتباس

کتنی خوبصورتی سے شفیق مراد سمندر کو کوزے میں بند کرتے جارہے ہیں ۔کس کس شعر کی مثال دوں اب یہ ایک مطلع ملاحضہ فرمائیں
حاشیے تبدیل ہو جاتے ہیں جب تصویر کے
پھر کئی مطلب نکل آتے ہیں اک تحریر کے

آخر میں شفیق مراد جیسی شفیق شخصیت کے لیے میرے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
سلامت رہیں علم کے چراغ روشن کرتے رہیں بلندی ان کا مقدر بنے آمین

انمول گوہر لاہور

Leave A Reply

Your email address will not be published.