’’ہیں وہی لوگ جہاں میں اچھے جو آتے ہیں کام دوسروں کے‘‘

0

میمن ویلفیئرسوسائٹی (ماسا) میمن کمیونٹی کیلئے بے شمار تقریبات کا اہتمام کرتی ہے جس میں کمیونٹی کے بچوں اور بڑوں کیلئے کھیلوں کے مقابلے، کرکٹ، تفریحی پروگراموں کے علاوہ بچوں کی حوصلہ افزائی کیلئے تعلیمی میدان، حفظ قران کرنے والے بچے اور بچیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے انکے لئے انعامات اور تقریبات منعقد کرتے ہیں، بچے اور بچیوں کے والدین کیلئے ملاقاتوں کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کی شادی کیلئے مناسب خاندان تلاش کرسکیں، پاکستان میں میمن برادری اپنی کمیونٹی کیلئے دیگر کمیونٹی کیلئے بھی انسانی خدمات کیلئے مشہور ہیں مرحوم عبدالستار ایدھی، حاجی محمد حینف طیب ودیگر انسانی خدمات کے حوالے سے بین الاقوامی طور مشہور ہیں۔ اسی طرح جدہ میں اپنی حدود میں رہتے ہوئے مہمان برادری میمن برادری کیلئے خدمات انجام دے رہی ہے بچے مستقبل کے معمار ہیں اور تعلیمی سرگرمیوں میں انکی حوصلہ افزائی کرنا ایک خوش آئند عمل ہے۔

گزشتہ دنوں اپنی پچھلی دس سالہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدہ سعودی عرب میں میمن ویلفیئر سوسائٹی-ماسا نے گیارویں تعلیمی ایوارڈ کا انعقاد اور ہر سال کی طرح اس سال بھی عبدالستار ایدھی ایوارڈ کا اعلان کیا جو ایک مقامی پارک میں منقعد کیا گیا، جس میں سعودی عرب میں مقیم میمن برادری کی معروف کاروباری اور سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان سمیت 700 افراد نے شرکت کی۔ اس تقریب میں ماسا کی طرف سے پرائمری اور سیکنڈری کلاسز، او اینڈ اے لیول، گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، ڈگری ہولڈرز اور حافظ قرآن سمیت 180 بچوں کو شیلڈ، ٹرافی اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔

تعلیمی ایوارڈ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت مریم فرحان نے حاصل کی اور محمد یاسر نے حمدیہ کلام پیش کیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض سراج آدمجی،سراج لالا اور عمران مسقتیہ نے ادا کئے صدر ماسا وسیم عبدالرزاق طائی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ایوارڈ کیلئے منتخب تمام بچوں کو مبارکباد پیش کی اور اس ایجوکیشن ایوارڈ کے علاوہ دوسرے تعلیمی اور دیگر پروگرام بھی منعقد کرانے کا عندیہ دیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی قونصل جنرل پاکستان جدہ جناب خالد مجید نے اپنے خطاب میں عبدالستار ایدھی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدلستارایدھی نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے وہ مثالی کام کئے ہیں جو بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اور فلاحی تنظیمیں نہ کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج پاکستان قائم ہے تو عبدالستار ایدھی مرحوم کی مصیبت ذدہ عوام کیلئے فلاحی کاموں کی وجہ سے ہے اور ساتھ ساتھ ماسا کے تمام ممبران کو باوقار تقریب منعقد کرنے پر مبارکباد دی اور بچوں کی حوصلہ افزای کی۔ ماسا کی جانب سے اس سال کا ایدھی ایوارڈ شعیب عبدالعزیز کو دیا گی-تقریب میں یعقوب المیمنی، عدنان ناصر (پرنسپل پاکستان انٹرنیشنل سکول جدہ) نے خصوصی طور پر شرکت کی اور تعلیمی میدان میں بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر ماسا کے عہدیداران اور ممبران کو خراج تحسین پیش کیا۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں سندھی کلچر ڈے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سندھ باسیوں نے اپنی ثقافت کو بھرپور انداز میں پیش کیا جبکہ مقامی گلوکاروں نے بھی سندھی گیت گا کر سماں باندھ دیا ۔

’ہی سندھ جئے سندھ واڑا جان‘
جدہ میں سندھ کلچر ل ڈے

سندھی ثقافت کی پہلی تعریف 7000 سال پرانی وادی سندھ کی تہذیب سے نکلتی ہے۔ یہ آریائی سے پہلے کا دور ہے، تقریباً 3000 سال قبل مسیح، جب سندھ میں شہری تہذیب اپنے عروج پر تھی۔سر مورٹیمر وہیلر کی کتاب وادی سندھ اور اس سے آگے کی تہذیب میں کہا گیا ہے کہ؛”تہذیب، اصطلاح کے ایک کم سے کم معنی میں، شہروں میں رہنے کا فن ہے، اس تمام شرط کے ساتھ جو سماجی مہارتوں اور نظم و ضبط کے حوالے سے ہے۔“۔بنیادی طور پر انسانی رہائش کے مادی اور ٹھوس پہلو سے جس کا سندھی ثقافت واحد جوہر ہے جسے سپر اسٹرکچر کہتے ہیں۔ موجودہ سندھ، وادی سندھ کی تہذیب کے شمالی حصے کے ساتھ (تقریباً 3000 سے 2500 قبل مسیح) اپنی شہری تہذیب پر واقع ہے۔

سندھ کی ثقافت کی جڑیں وادی سندھ کی اسی تہذیب میں ہیں ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتے کو دنیا بھر میں سندھ سے تعلق رکھنے والے لوگ سندھ کلچر ڈے کا اہتمام کرتے ہیں اس خوشی ادبی (شاعری) اجتماعات، مچ کچہری (ایک جگہ پر جمع ہونا اور دائرے میں گول بیٹھنا اور بیچ میں لاٹھیوں کی آگ)، میوزیکل کنسرٹ، سیمینار، لیکچر پروگرام اور ریلیاں۔ جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگ لباس، اجرک (روایتی بلاک پرنٹ شدہ شال) اور سندھی ٹوپی پہنتے ہیں، اس دن کو جوش و خروش سے منانے کے لیے کئی شہروں میں میوزیکل پروگرام اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ شہروں اور قصبوں کے اہم مقامات کو سندھی اجرک سے سجایا گیا ہے۔ سندھ بھر کے لوگ مختلف تقریبات میں اجرک اور ٹوپی کے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بچے اور خواتین اجرک میں ملبوس ہو کر عظیم الشان اجتماع میں جمع ہوتے ہیں، جہاں مشہور سندھی گلوکار سندھی گانے گاتے ہیں، جس میں سندھ کے امن اور محبت کے پیغام کو دکھایا جاتا ہے۔

فنکاروں کی موسیقی کی پرفارمنس شرکاء کو سندھی دھنوں اور قومی گیت پر رقص کرنے پر مجبور کرتی ہے، جسے احمد مغل (مرحوم رحمٰن مغل کے بھائی) نے گایا ہے، ”ہی سندھ جئے سندھ واڑہ جان سندھی ٹوپی اجرک والا جان“۔سندھی کلچر ڈے کے حوالے سے جدہ میں منعقد ہونے والی تقریب میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے جنھوں نے سندھی اجرک اور ٹوپی پہن کر کلچر ڈے کو بھرپور انداز سے منایا مقامی گلوکار میر ساریو اور عباس سیال نے سندھی فوک میوزک کے ذریعے خوب سماں باندھا جس پر شرکاء نے روایتی ڈانس کرکے تقریب کو خوب دوبالا کیا اس موقعہ پر تقریب کے آرگنائزر طارق سندھی اور عامر خشک کا کہنا تھا کہ سندھی ثقافت پوری دنیا میں اپنا منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں جس طرح سندھی کلچر ڈے منایا جاتا ہے اس سے پاکستان اور اسکے ثقافتی رنگ عیاں ہوتے ہیں اور پاکستان کا مثبت چہرہ ابھرتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.