ابوظہبی ڈائیلاگ ADD میں ہونیوالی بات چیت سے چیلنجز سے نمٹنے اور تارکین وطن کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی

0

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ابوظہبی میں (ADD) ابوظہبی ڈائیلاگ میں پاکستان کی نمائندگی کی

دبئی (طاہر منیر طاہر) متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ابوظہبی میں (ADD) ابوظہبی ڈائیلاگ میں پاکستان کی نمائندگی کی جس میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی جنید مرتضیٰ پاکستان قونصلیٹ جنرل دبئی نے کہا کہ یہ فورم مزدوروں کی نقل مکانی کے سب سے بڑی عارضی راہداریوں میں سے ایک میں محفوظ، منظم اور باقاعدہ مزدور تحریک کے حوالے سے بامعنی گفتگو اور مکالمے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا خیال ہے کہ ابوظہبی ڈائیلاگ کثیر جہتی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جس میں رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ باہمی ربط کو فروغ دینے، تعاون کو بڑھانے اور عارضی مزدوروں کی نقل مکانی سے متعلق دیرپا حل کے لیے خیالات کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے ایک طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔

کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ابوظہبی ڈائیلاگ ADD میں ہونے والی بات چیت سے چیلنجز سے نمٹنے اور تارکین وطن کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی اور اصل اور منزل کے ممالک کو عارضی مزدوروں کی نقل مکانی سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔کمیونٹی ویلفیئر اتاشی CWA نے بتایا کہ چیئر اور سیکرٹریٹ نے ماہرین کی مدد سے رپورٹوں کا ایک سلسلہ تیار کیا ہے جو کل ساتویں وزارتی مشاورت میں وزراء کو پیش کی جائیں گی۔

پاکستان نے گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کے لیبر مائیگریشن کوریڈور کے اندر ایک جامع سماجی تحفظ کا نمونہ وضع کرنے اور تارکین وطن کارکنوں کو ان کی باوقار واپسی اور دوبارہ انضمام کے لیے ان کے متعلقہ آبائی ممالک میں ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کی تجویز دی۔پاکستان نے ابوظہبی ڈائیلاگ کے مستقل سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرنے کے عزم پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اورابوظہبی ڈائیلاگ ADD کے رکن ممالک کے سرکاری نمائندوں کے لیے پالیسی ہدایات مرتب کرنے میں ایڈوائزری کمیٹی اور ماہرین اور محققین کے کردار کو سراہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.