چینی خلا باز کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں چین کی خواتین کے کام کی کامیابیوں کا تعارف

نیو یارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58ویں اجلاس میں بیجنگ اعلامیے اور ایکشن پلان کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پرایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

خلا میں جانے والی چین کی پہلی خاتون خلاباز لیو یانگ نے دنیا کی ممتاز خواتین کی نمائندہ کی حیثیت سے ویڈیو کے ذریعے کلیدی تقریر کی اور نئے دور میں چینی خواتین کے نصب العین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے تصور اور کامیابیوں کو متعارف کرایا۔

لیو یانگ کا کہنا تھا کہ جب شینژو خلائی جہاز کا انجن جلایا گیا تو یہ نہ صرف 600 ٹن زور کا جھٹکا تھا جو انہوں نے محسوس کیا بلکہ کروڑوں چینی خواتین کی طاقت بھی تھی۔

8گنا زیادہ کشش ثقل والے سینٹری فیوجز سے لے کر تنگ ماحول میں مطابقت کے لیے 72 گھنٹے کی نفسیاتی تربیت تک، چین کا مساوی ایرو اسپیس تصور "معیارکے سامنے کوئی صنف نہیں” چین میں خواتین کے کیریئر کی ترقی کی بنیادی منطق کو ظاہر کرتا ہے۔ ادارہ جاتی ضمانتوں کے ذریعے یکساں مواقع پیدا کرنا ہی بیجنگ اعلامیے کی روح کا ٹھوس عمل ہے۔

Comments (0)
Add Comment