ویانا (رپورٹ:محمد عامر صدیق) پاکستانی کمیونٹی فورم آسٹریا کی جانب سے سفیر پاکستان محمد کامران اختر کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر سفارت خانہ پاکستان کے کمیونٹی کونسلر شہزاد سلیم اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔
اس موقع پر سفیر پاکستان محمد کامران اختر نے عشائیہ میں آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی کمیونٹی فورم آسٹریا کی دیار غیر میں اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات اور پاکستان کےامیج کے حوالے سے خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریا میں موجود اوورسیز پاکستانیوں نے اپنی محنت اور لگن سے کام کرکے دکھایا اور بتایا کہ پاکستانی کتنی محنتی قوم ہے جس کا آسٹریا حکومت نے بھی اعتراف کیا ہے۔
سفیر پاکستان نے پاکستانی کمیونٹی فورم آسٹریا کے زیر اہتمام گذشتہ سالوں میں پاکستانی کمیونٹی کے لئے جو خدمات کی گئی ہیں، انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ سفیر پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا اثاثہ قرار دیا۔
سفیر پاکستان محمد کامران اختر نے پاکستانی کمیونٹی فورم آسٹریا کے صدر ندیم خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ یہ پہلے پاکستانی ہیں جو چیمبر آف کامرس آسٹریا کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ میں آسٹریا کی پاکستانی کمیونٹی کے سیاسی، کاروباری،سماجی، مذہبی اور تاجر برادری جو کہ چیمبر آف کامرس (ویل شارف کاما) کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھنے والے تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ووٹرز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تاریخ 11 مارچ سے 13 مارچ 2025 کے دوران ندیم خان کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں، میں تمام پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ انہیں اپنا قیمتی ووٹ دیں اور پاکستان کی آسٹریا میں مثبت شکل پیش کریں۔
اس موقع پر ندیم خان نے کہا سب سے پہلے میں سفیر پاکستان محمد کامران اختر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جو آج اس پرتکلف عشائیہ میں تشریف لائے اور پاکستانی کمیونٹی فورم آسٹریا کے عہدے داران اور ممبران کو عزت بخشی۔
مزید انہوں نے کہا آسٹریا میں کاروباری افراد کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے، میری کوشش ہوگی کہ (ویل شارف کاما) کا حصہ بن کر تارکین وطن اور خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی کے ٹرانسپورٹروں، کاروباری حقوق کا تحفظ کروں۔
مجھے امید ہے کہ آسٹریا کے کاروباری حلقے میرے عزم پر اعتماد کریں گے، عشائیہ کے آخر میں پاکستانی کھانوں سے آنے والے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔