لندن اور نیو یارک میں فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد کا احتجاج

0

لندن(ویب ڈیسک)برطانیہ اور امریکا میں ہزاروں افراد نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق لندن اور مانچسٹر سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہرون میں شرکت کی اور غزہ میں گزشتہ سات روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ بمباری فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

لندن میں ہزاروں افراد وزیراعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ اور بی بی سی ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع ہوئے اور فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور حمایتی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ درجنوں پولیس افسران وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ کے باہر تعینات تھے۔ مظاہرین نے ‘رشی سونک شرم کرو، سویلا بریورمین شرم کرو کے نعرے بھی لگائے۔

لیورپول، برسٹل، گلاسگو اور نیو کیسل میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطین کے حق میں احتجاج کیا جس میں ہر عمر کے مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب برطانیہ کی بھارتی نژاد وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے پولیس کو فلسطینی پرچم لہرانے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی تھی۔

قبل ازیں برطانیہ کی وزارت داخلہ سویلا بریورمین نے پولیس فورسز کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ سڑکوں پر فلسطینی پرچم لہرانا قابل گرفت جرم ہوسکتا ہے اور ایسا کرنے والے کو حماس اور دہشت گردی کا حامی سمجھا جائے۔

وزیر داخلہ سویلا بریومین نے مزید ہدایت کی کہ فلسطینی پرچم لہرا کر حماس کی حمایت یا یہودیوں کو ڈرانے کی کوشش کرنے والوں سے پولیس پوری طاقت سے نمٹے۔

سویلا بریومین کا کہنا کہ حماس کے حق میں نعرے لگانے والوں پر پابندی پر غور کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعروں کو بھی جرم تصور کرنے کی تجویز ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 2021 میں حماس کو دہشت گرد گروپ تسلیم کرکے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

دوسری جانب نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر بھی ہزاروں افراد نے فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں اسرائیلی بمباری کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کو یہ نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا گیا کہ “دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو گا”۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.