الیکشن مینجمنٹ وعام پبلک کی ذمہ داریاں

0

انسانی حقوق، عدل و انصاف ،مساوات، جمہوری روایات اور احترام آدمیت کے فرق کو الیکشن 8 فروری 2024ءکے زریعے پر کیا جاسکتا ہے جو ہمارے ملک میں کمزور طبقات کی شخصی آزادیوں کے تحفظ و تقدس کا کوئی رواج نہیں۔حق سچ کی آواز بلند کرنے والے چند ایک صحافیوں دانشوروں، اور سیاسی کارکنوں کی زندگی تنگ کرنے اور خواتین کی بے حرمتی، تشدد اور تذلیل والا ظلم ووٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اس ملک میں آمرانہ سیاسی نظام، طبقاتی غلبہ اور استحصالی سماجی، معاشرتی اور انتظامی و عدالتی ڈھا نچے ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار کر نا ممکن نہیں ۔

ہم نے جمہوریت، آئین، اور عدل و انصاف کو جسٹ ایک کھیل تماشہ بنا رکھا ہے۔پاکستان کی رولنگ ایلیٹ کسی حوالے سے بھی ڈیلیور نہیں کر پا رہی وہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے میں بری طرح ناکام ہے جس کی وجہ سے ملک کے تعلیم یافتہ اور صاحب فراست پاکستانیوں میں شدید اشتعال اور ردعمل پایا جاتا ہے۔ جس سے مذہبی شدت پسندی کو تقویت مل رہی ہے اور عملاً دین کی بنیادی تعمیری اقدار پر اجتماعی صورت گری کہیں دکھائی نہیں دے رہی ۔ ملک کا نوجوان با شعور تعلیم یافتہ طبقہ ملک سے بیگانگی اختیار کر رہا ہے اکثر یت کی کوشش ہے کہ اس ملک سے ہجرت کر جائیں کیونکہ پاکستان میں 76 سال گزرنے کے بعد بھی ہم انسان دوست معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

8فروری کے انتخابات کے بعد بس ایک امید دکھائی دے رہی ہے وہ ہے ایک گڈویل پارٹی جس کو عوام انتحاب کے ذریعے ملک میں آنے والے وقتوں میں ایک جمہوری، فلاحی ریاست کا روپ ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ موجود وقت کی سیاسی اور غیر سیاسی قیادت سے امید رکھنا میرے سے بہتر أپ لوگوں کو اندازہ ہیں جب الیکشن منصفانہ نہ ہوں گے اور جیتنے والے آزاد امیدواروں کی اکثریت نادیدہ ہاتھ میں ہوگی تو کیسا سیاسی استحکام؟ اورکیسی معاشی ترقی؟ جب ڈنذے کے زور پر سماج کو پرونے کی کوشش کی جائے گی تو ایسی چھید والی چھلنی میں کیا ٹھہرے گا ۔ ہم دائروں میں سفر کر رہے ہیں اور بحثیت قوم ہماری مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہمارا مستقبل تاریک سے تاریک ہوتا جارہا ہے اور دہشتگردی و فرقہ پرستی جیسی لعنت اور کچھ عناصر جن کا ماضی میں ملکی فرقہ وارانہ دہشتگردی میں کردار نظر آتا رہا و جو دہشتگردوں کی پشت پناہی کرتے رہے انکو اس انقلابی انتخابات سے دور رکھا جائے تاکہ کہیں وہ آ کر اپنا مذموم نظریہ پھیلانے کی کوشش نہ کرے ایسے عناصر پر عوام خود نظر رکھیں اور انہیں اپنے حلقوں میں نہ گھسنے دیں۔عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت اور شعور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ حکمران ماضی کی طرح غریب لوگوں کے پاس جا کر ان کے ووٹ کی بولی لگا رہے ہیں۔

ان کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ اقتدار میں آ کر ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہے اور عوام کے ووٹ کو اپنی ذات کے لئے استعمال کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کو اقتدار میں لانا عوامی قتل کے مترادف ہو گا۔8 فروری2024 کے انتخابات میں 12 کروڑ 88 لاکھ 85 ہزار 760 افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں سے 6.9 کروڑ 2 لاکھ 63 ہزار سے زائد مرد اور 5.9 کروڑ3 لاکھ 22 ہزار سے زائد خواتین ہیں اور جاری کردہ پولنگ ایجنٹ ٹریننگ مینوئل تیار کننده اختر عباس مگھیانه سیال برائے الیکشن 2024 پارٹی منیجمنٹ سیل (PMC)‏ کیمطابق اپنی ڈیوٹی ایمان داری اور خوش اسلوبی سے نبھائےکسی امید دار ، سیاسی جماعت یا نتائج پر اثر انداز ہونے کے خواہش مند امید وار یا شخص سے کسی قسم کی مالی معاونت کی پیشکش قبول نہ کریں کیونکہ ایسی پیشکش رشوت کے زمرے میں آتی ہے تمام ذمہ داریاں انتخابی قوانین اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق عمل میں لائیں اور دباؤ میں آکر کسی سے کوئی رعایت نہ برتیں اور کوئی غیرقانونی کام نہ کرنا چاہئے کسی غیر مجاز شخص یا ایسے شخص کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دیں جس کا نام انتخابی فہرست میں موجود نہیں ہے۔

کسی بھی اہل ووٹر کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکیں اور غیرکبھی اپنی سیاسی آراء کو انتخابی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ بننے دیں اور فرائض کی ادائیگی کے دوران کسی سیاسی رائے کا اظہار نہ کریں اور نہ کاپولنگ کے عمل کے دوران غیر جانبدارانہ رویہ رکھیں اور کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کے خلاف یا حق میں جھکاؤ کا مظاہرہ نہ کریں۔ کوئی ذاتی تجزیہ کریں . ایسالباس نہ پہنیں اور نہ ہی کوئی ایسی علامت لگائیں جو کسی مخصوص سیاسی جماعت یا امید وار سے تعلق رکھتی ہو۔الیکشن ایجنٹ ، میڈیا اور مبصرین کو اجازت نامہ دکھانے کی صورت میں ہی انتخابی عمل کے مشاہدے کا حق حاصل ہے . متعلقہ حلقے کے امید وار اور اس کے الیکشن ایجنٹ کو تمام پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل کے مشاہدے کا حق حاصل ہےصنف، نسل، مذہب یا سیاسی ہمد ردیوں سے بالا تر ہو کر تمام لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کریں اورخواتین، بزرگ، بیمار اور معذور افراد کی مدد اور رہنمائی کریں۔

علاقائی، سماجی اور مذہبی اقدار کا احترام کریں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر ووٹر اپنی مرضی کے امید وار کو پوری شخصی آزادی کے ساتھ ووٹ دے اچھی طرح یقین کر لیں کہ ووٹنگ سکرین ایسی جگہ پر رکھی گئی ہو کہ جہاں سے کوئی بھی شخص بشمول پولنگ عملہ ، پولنگ ایجنٹ ، میڈ یا کار کن،مبصرین وغیرہ ووٹر کو بیلٹ پیپر پر مہر ثبت کرتے ہوئے نہ دیکھ سکیں اور پولنگ عملے کیلئے پیشہ وارانہ ضابطہ اخلاق اور ایمان داری سے ڈیوٹی کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھی ذمہ داری ہے کہ پولنگ سٹیشن سے 100 میٹر کے علاقے میں کسی امیدوار کی انتخابی مہم کی تمام علامات کو پریزائڈنگ آفیسر کے ہدایات کے مطابق ختم کرنا اورانتخابی سامان اور انتخابی عملے کو پولنگ سٹیشن پر بحفاظت پہنچانا ۔

پولنگ کے دوران پولنگ سٹیشن کے باہر امن و امان بر قرار رکھناووٹرز کی قطار بندی کو یقینی بنانا تا کہ ووٹر ترتیب سے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔پولنگ سٹیشن کے 400 گز کے علاقے میں کسی امیدوار کو کیمپ لگانے کی اجازت نہ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ مذکورہ بالا حدود میں کسی امیدوارکے حق میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب نہیں دی جارہی۔پریزائڈنگ آفیسر کے حکم پر پولنگ سٹیشن کے اندر کسی بھی ہنگامی حالت میں مدد کرنا. پریزائڈنگ آفیسر کے حکم پر انتخابی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو پولنگ سٹیشن سے باہر نکالنا اور مناسب قانونی کاروائی کرنا۔پولنگ سے پہلے ، پولنگ کے دوران اور پولنگ کے اختتام پر انتخابی سامان کی حفاظت کرنا۔انتخابی سامان کو بحفاظت پولنگ سٹیشن سے ریٹر نگ آفیسر کے پاس لے جانے کو یقینی بنانا۔ پریزائڈنگ آفیسر کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنا۔

اس کے علاوہ ضابطہ فوجداری کے قانون مجریہ 1898 کے مطابق پولیس آفیسر کسی بھی شخص کو انتخابی عمل میں مداخلت یا ہنگامی صورتحال پیدا کرنے پر بغیروارنٹ کے گرفتار کر سکتا ہے۔ انتخابی عمل میں یہ اختیار درج ذیل صورتوں پر استعمال ہوتا ہےاگر کوئی شخص کسی اور شخص کی جگہ خود کو ووٹر ظاہر کرنے کا مر تکب ہو اور پریزائڈنگ آفیسر اس کی گرفتاری کا حکم جاری کرے کوئی ایسا شخص جس کو پریزائڈنگ آفیسر نے پولنگ سٹیشن سے بے دخل کیا ہو اور وہ پریزائڈنگ آفیسر کی اجازت کے بغیر دوبارہ پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص الیکشن کمیشن کے کسی بھی نوٹس یا بیٹر کو ہٹائے ۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کے پرامن، محفوظ اور کامیاب انعقاد کے لیے بروقت انتظامی و حفاظتی انتظامات یقینی بنائیں تاکہ سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ووٹرز کو انتخابات کے حوالے سے ایک سازگار ماحول فراہم ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.