انجمن ارباب فکر و فن کی تنظیم نواورعظیم الشان مشاعرہ

0

سید عماد بخاری کو تنظیم کا نیا صدر اور محمد فیصل کو سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا

کویت (محمد عرفان شفیق سے) کویت میں انجمن ارباب فکر و فن کے زیر اہتمام،تنظیم کے چئیرمین خالد سجاد احمد کی رہائش گاہ پر گزشتہ روز ایک عظیم الشان محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں کویت میں مقیم اردو کے نامور شعراء نے شرکت کی، اس موقع پر چئیرمین خالد سجاد احمد نے انجمن ارباب فکر و فن کی تنظیم نو کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معروف شاعر سید عماد بخاری کو تنظیم کا نیا صدر اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیت محمد فیصل کو سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا ہے، اس موقع پر تنظیم کے واحد بانی رکن ڈاکٹر افروز عالم اور دیگر شرکاء نے نو منتخب صدر اور سیکرٹری جنرل کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ارباب فکر و فن ان کی قیادت میں اردو کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی، کمپیئرنگ کے فرائض نومنتخب سیکرٹری جنرل محمد فیصل نے منفرد انداز میں انجام دیے اور ایک بار پھر ثابت کردیا کہ کمپیئرنگ کے شعبہ میں کویت میں ان کا کوئی ثانی نہیں، انہوں نے ہر شاعر کا تعارف کراتے ہوئے اتنے خوبصورت اشعار پیش کیے کہ شرکاء دنگ رہ گئے، عظیم شعراء کے منتخب اشعار ان کو ازبر ہیں،

انہیں انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا، ان کی کمپیئرنگ نے کویت میں ایک عرصہ بعد منعقد ہونے والی ایک ادبی تقریب کو یادگار بنا دیا،

تقریب کی صدارت سینئر شاعر فیاض احمد خان وردگ نے کی، معروف سماجی و کاروباری شخصیات پیر امجد حسین اور شہزاد الرحمن بٹ مہمانان خصوصی تھے، جبکہ کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر رانا اعجاز حسین اور مسلم سنٹر ن لیبر ونگ کے صدر محمد زبیر شرفی نے مہمانان اعزاز کے طور پر شرکت کی۔

محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کی سعادت انصاف ویلفیئر سوسائٹی کویت کے صدر پیر امجد حسین نے حاصل کی، نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سعادت شہزاد الرحمن بٹ کے حصہ میں آئی، انہوں نے مظفر وارثی کی مشہور نعت

آرزو اپنی تو بس یہی ہے
جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں

بڑے جذبہ سے پیش کر کے داد و تحسین حاصل کی،تقریب کے میزبان خالد سجاد احمد نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور انجمن ارباب فکر و فن کی تنظیم نو کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلی میعاد تک عماد بخاری تنظیم کے صدر اور محمد فیصل جنرل سیکرٹری ہونگے، جس کے بعد مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز ہوا، شعراء کا منتخب کلام نذر قارئین :
رحمان انصاری
حقیقت سے محبت سے بہت بیزار رہتے ہیں
ہمارے حلقہ یاراں میں کچھ اغیار رہتے ہیں

محمد فیصل
تیرے حلقہ دعا کے مستحق ہیں
میرے جذبے وفا کے مستحق ہیں
امیر شہر کے خاص آدمی ہیں
وہ قاتل جو سزا کے مستحق ہیں

شہزاد سلطان کیف
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے واحد شاعر، کشمیر سے محبت ان کے کلام سے جھلکتی تھی۔
بے شک کٹ جائے گردن اپنی
پر کٹنے نہیں دوں گا کشمیر اپنا

کشمیر کی سبز، ہواؤں میں
ٹھنڈی ٹھنڈی سرد ہواؤں میں
پھر اپنوں کی یاد بہت آتی ہے
پھر جانے کا نام نہیں لیتی ہے

ایوب نیزا مزاحیہ شاعری کرتے ہیں اور کمال کی شاعری کرتے ہیں۔
روٹھی ہوئی ہے آپ کی بیوی تو کیا ہوا
اس کیلئے یہ نسخہ کمال ہے

روز بیوی کو مناتے ہوئے تھک جاتا ہوں
ابراہیم سنگ قاصد نے بہت خوبصورت کلام پیش کر کے بھر پور داد سمیٹی
روبرو جانے سے کئی چہرے اتر جائیں گے
وہ بلائیں گے نہیں ہم کو مگر ہم جائیں گے

سامنے جب تیری تصویر پرانی آئی
یوں کھلا میرا چہرہ جیسے جوانی آئی

طاہر بشر
چار دن کا عشق تھا چار دن میں ڈھل گیا
جسم تو وہی رہا دل مگر بدل گیا

مفلسی دے نہ سکی عمر بھر جسے شکست
بے بسی کا دور یہ اس کو بھی نگل گیا

خضر حیات خضر اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر ہیں، انہوں نے ایک بار اپنے خوبصورت اشعار سے شرکاء کو جھومنے پر مجبور کر دیا، انہوں نے شرکاء کی فرمائش پر اپنی مشہور پنجابی نظم ،،کل دی گل اے، بھی پیش کی اور بھرپور داد سمیٹی

خاک اوڑھے گا یہ اجلا سا بدن
جس پہ آج یہ نازاں تم ہو

ادا دیکھتے ہیں ہنر دیکھتے ہیں
تمہیں یار شام و سحر دیکھتے ہیں
کرے رہنمائی جو منزل کی یارو
کہاں وہ خضر ہے ، خضر دیکھتے ہیں

ندیم مظفر نگری ترنم سے پڑھتے ہیں اور محفل لوٹ لینے کا فن جانتے ہیں
کوشش کے باوجود بھلائے نہیں جاتے
قصے غموں کے سب کو سنائے نہیں جاتے
وہ سر خدا کی راہ میں کٹ کر بلند ہیں
باطل کے سامنے جو جھکائے نہیں جاتے

سر شام جو ستارے پلکوں پہ ان کی چھلکے
عنوان بن گئے وہ رنگینی غزل کے

نسیم زاہد شعبہ تدریس سے منسلک ہیں، ان کا پہلا شعری مجموعہ،چراغ روشن ہے، شائع ہو کر کویت پہنچ چکا ہے، تقریب رونمائی کا انتظار ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر خوبصورت کلام پیش کر کے بھرپور داد سمیٹی، خاص طور پر پروین شاکر کی غزل،کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی، کی زمین میں لکھی گئی ان کی غزل بہت پسند کی گئی

شکر ہے اس نے پس پردہ تجھے دیکھ لیا
لاج رکھ لی تیرے سودائی نے بینائی کی
اب نظر آنے لگا مجھ کو دعاؤں کا اثر
روٹھنے والی ہے قسمت شب تنہائی کی

مسعود حساس کویت میں مقیم واحد صاحب دیوان شاعر، جن کو انقلابی شاعر قرار دیا جاتا ہے، ان کے انقلابی اشعار نے محفل کا رنگ ہی بدل دیا

ہماری شعر کی نگری کو کچھ خطرات لاحق ہیں
چھپے ہیں بھیڑ میں بھیڑییے باخبر رہنا

خدا کا شکر ابابیل بن کے رہتی ہیں
دعائیں قوم کی مجاہدین کے ساتھ

ان سب کے سجدے نجس ہو گئے جبین کے ساتھ
وہ قائدین جو غدار ہیں زمین کے ساتھ

خالد سجاد تقریب کے میزبان خالد سجاد احمد، چئیرمین انجمن ارباب فکر و فن نے ایک بار پھر محفل لوٹ لی، وہ سامعین کو ہنسا بھی سکتے ہیں اور رولا دینے کے فن سے بھی آشنا ہیں، ان کے اشعار نشتر کی مانند دل پہ وار کرتے ہیں

سنو دشوار رستہ بہت ہے
گم ہونے کا بھی خدشہ بہت ہے
تجھے رخصت کروں گا ہنس کے بیٹی
رلانے کو تیری گڑیا بہت ہے

کون کہتا ہے کہ تصویر میں کم آتا ہے
آنکھ کا خواب بھی تعبیر میں کم آتا ہے
آنکھ سے ہوتی ہوئی دیکھ مسلسل بارش
یہ وہ غم ہے جو تحریر میں کم آتا ہے

عماد بخاری ارباب فکر و فن کے نو منتخب صدر، انہوں نے سب سے پہلے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور عزم ظاہر کیا کہ کویت میں اردو ادب کے فروغ کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،

وہ چھوٹی بحر میں بڑی منفرد شاعری کرتے ہیں
اس قدر تم جو پیارے لگ رہے ہو
اس زمین کے ستارے لگ رہے ہو
کہہ رہی ہے دل کی دھڑکن بھی
آج تو تم پیارے لگ رہے ہو

کوئی تدبیر کرنا چاہتا ہوں
تجھے تسخیر کرنا چاہتا ہوں
میرا غم حد سے بڑھتا جا رہا ہے
میں ذکر میر کرنا چاہتا ہوں

ڈاکٹر افروز عالم تقریب میں موجود انجمن ارباب فکر و فن کے واحد بانی رکن، انہوں نے نو منتخب صدر اور جنرل سیکرٹری کو مبارکباد پیش کی، وہ باترنم پڑھتے ہیں اور ہمیشہ محفل لوٹ لیتے ہیں،

ذہن راضی ہوا تو دل نے بغاوت کر دی
آخرش یوں ہوا منزل نے بغاوت کر دی

کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آئے
جیسے نزہت کوئی رک رک کے محفل میں آئے
کشتیاں ٹوٹیں تو قذاق میرے یار ہوئے
راہ سوجھی تو ساحل نے بغاوت کر دی

ڈاکٹر عامر قدوائی منفرد لہجے کے مالک ہیں، اردو سے محبت رکھنے والا ہر شخص ان کا ا حترام کرتا ہے اور ان کی استادی کا معترف ہے، نمونہ کلام پیش خدمت ہے

ابھی زندہ ہیں خوابوں کے سہارے کوئی
اس کو خوابوں کی بلندی سے اتارے کوئی
پیش قیمت ہیں یہ آنسو انہیں ضائع نہ کرو
ایسے مٹی میں ملاتا ہے ستارے کوئی

راتوں کو جاگ جاگ کے رویا کبھی نہ تھا
انسان اس طرح سے تو ٹوٹا کبھی نہ تھا

تیری محبت نے بدل ڈالا لہجہ اپنا
ورنہ ہم لوگ تو پتھر کی زبان سمجھتے تھے

آخر میں تقریب کے صدر سینئیر شاعر فیاض وردگ کو صدارتی خطبہ اور کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی، انہوں نے انجمن ارباب فکرو فن کے نومنتخب صدر عماد بخاری اور جنرل سیکرٹری محمد فیصل کو مبارکباد پیش کی، انہوں نے تقریب کے میزبان خالد سجاد کو بھی کامیاب اور یادگار مشاعرہ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی، انہوں نے کویت کے قومی دن اور یوم آزادی کے حوالے سے خوبصورت کلام پیش کیا۔

ہر لمحہ کہوں عید وطن کویت مبارک

جانے کس بات پہ سنگسار کیا لوگوں نے
وہ شخص جو کھڑا تھا تیری تصویر کے ساتھ

یہ جو پاگل سی ہوا چلتی ہے
دل کو دیوانہ بنا دیتی ہے

آخر میں ممتاز تعلیمی و ادبی شخصیت سہیل یوسف نے کامیاب محفل مشاعرہ کے انعقاد پر میزبان خالد سجاد کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر کویت کے قومی دن اور لبریشن ڈے کے حوالے سے خصوصی کیک بھی کاٹا گیا، شرکاء کیلئے پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!