بزم امروز اور لاہور میں ہونے والی ریڈیو لسنرز کانفرنس ایک ہی دن ہونے کی وجہ سے خوشیاں بٹ گئیں
شمع محفل رانا گلزار نے بڑے تپاک سے بزم امروز کے مہمانوں کو خوش آمدید کہا
میرا بزم امروز سے محبت کا یہ عالم ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام ہی امروز رکھ دیا ہے،مسرت کلانچوی
لاہور(رپورٹ:پرنس افضل شاہین)بزم امروز بچپن کے دوستوں سے ملاقات کا سوچ کر ہی ایک ماہ پہلے ہی دل جھوم رہا تھا۔ اللہ اللہ کر کے وہ دن آیا جس کاشدت سے انتظار تھا۔ میرے لئے اور چند لسنرز دوستوں کے لئے پریشانی یہ تھی کہ ہم نےاسی روز ڈبلیو یوایل او کی جانب سے ہونے والی آل پاکستان لسنرز کانفرنس میں بھی شرکت کرنی تھی جو کہ گلشن راوی لاہور میں ہی ہونا تھی۔ بہاولنگر سے ہم دس لسنرز دوست ہائی ایس گاڑی بک کرواکر لاہور کے لئے روانہ ہو گئے ۔ دس بجے سے پہلے ہی ہم لسنرز دوست گلشن راوی لاہور پہنچ چکے تھے ۔

ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوکر ہم ہال میں پہنچے ۔ دس بجے کانفرنس شروع ہو گئی۔ سچ پوچھیں توہمارا دل انڈیگو ہوٹل گلبرگ کے لئے مچل رہا تھا۔ جہاں ہمارے بچپن کے دوست ہمارا انتظار کررہے تھے۔ فیصل آباد سے بزم امروز کے دوست راشد قمراور رزاق شاہد اپنے لسنرز دوستوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔فیصل آبادی دوستوں نے بھی وہاں گفٹ تقسیم کرنے تھے اور ہم ستلج لسنرز کلب بہاولنگر کے دوستوں نے بھی وہاں چھ دوستوں نے 38 گفٹ تقسیم کرنے تھے۔ میں نے اپنے ستلج لسنرز کلب بہاولنگر کے تاحیات صدر عبدالغفور قیصر سے کہاکہ میں نے اپنے بچپن کےدوستوں سے ملنے انڈیگوہوٹل جانا ہے۔ انہوں نے مجھے جواب دیا۔ تم ستلج لسنرز کلب کے نائب صدر ہو تمہارا یہاں ہونا ضروری ہے۔ یہ 38 گفٹ ہم کلب ممبران نے یہاں تقسیم کرنے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ پانچ دوست یہ گفٹ تقسیم کر دیجئے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بزم امروز کی ڈیٹ رکھنے کا حق پہلے آپ لوگوں کو ہو گا ہم آپ کی ڈیٹ کے بعد آئندہ سال پاکپتن میں ہونے والی لسنرز کانفرنس کی ڈیٹ رکھ لیں گے۔ دن بارہ بجے راشد قمراور رزاق شاہد جس گاڈی میں فیصل آباد سے آئے تھے اسی گاڈی میں ہم بیٹھنے ہی والے تھے کہ میری نظر بزم امروز کے بچپن کے ساتھی طاہر منیر طاہر پر پڑی جو کہ اس لسنرز کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کے لئے آرہے تھے۔ سب سے پہلے میں ان سے گلے ملا اور انہیں ویلکم کہا پھر باقی دوست بھی گلےملے ہم نے انہیں بزم امروز کے اجلاس میں شرکت کے لئے دعوت دی ۔ انہوں نے کہا کہ میں لسنرز کانفرنس میں شرکت کرنے آیا ہوں یہ پروگرام ایک ماہ پہلے ہی بن چکا تھا۔

اگر ایک ہی وقت میں یہ کانفرنس اور اجلاس نہ ہوتے تو اپنے بچپن کے دوستوں سے ملنے ضرور آپ کے ساتھ چلتا۔ زندگی رہی تو آئیندہ سال سہی۔ پھر ہم ان سے اجازت لے کر رزاق شاہد راشد قمر ۔ ایوب منظر۔ ظفراللہ ضیاء۔ انڈیگو ہوٹل کے لئے روانہ ہو گئے ۔ ہوٹل پہنچتے ہی شمع محفل جناب رانا گلزار نے بڑے تپاک سے ہمیں ویلکم کیا۔ پھر ہم سب لفٹ کے زریعے بزم امروز کے باقی دوستوں کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں ہمیں سب سے پہلے مسعود سیفی نے گلے مل کرویلکم کیا۔ انکے بعد ہم سجاد احمد۔عابد محمود۔شبیر بربرا۔اقرار حسین اعوان۔ ارشاد العصر جعفری۔ شکیل عادل۔ اختر جاوید۔ امین صاحب سے گلے ملے۔پھر ہم نے ایڈمن آپی۔مسرت کلانچوی۔ مریم راشد۔ آئینہ مثال کو السلام علیکم کہا۔ ہم تمام دوست باقی ممبران کو یادکر کےاداس ہو رہے تھے کہ اچانک سرپرائزز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سب سے پہلے رانا اسراراحمد آئے ان کے بعد طاہر امین۔ اے ٹی الفا کے فاروق ندیم۔ اسد بخاری۔غیاث الدین۔
سب کے دلوں کے جانی فضل فانی تک سرپرائزز کا سلسلہ جاری رہا۔پھرباقاعدہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن مجید پڑھنے کاشرف مسعود سیفی نے حاصل کیا۔ حمد باری تعالی مریم راشد نے پڑھی اور نعت شریفپڑھنے کا شرف عابد محمود عابد نے حاصل کیا۔ اس کے بعد تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔ مہمان خصوصی مسرت کلانچوی جو بزم امروز کے آخری ایام میں اس صفحے کی انچارج بھی رہی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرا بزم امروز سے محبت کا یہ عالم ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام ہی امروز رکھ دیا ہے۔ میں جب بھی اپنے بیٹے کو دیکھتی ہوں تو مجھے بزم امروز کا صفحہ یاد آجاتا ہے اور اس میں لکھنے والے لکھاری یاد آجاتے ہیں۔ پھر سجاد احمد نے اپنے ہاتھوں سے سب کو خوشی کی برفی کھلائی۔ پھر آٹھ دس دوستوں نے ہی تعارف کروایا تھاکہ ہوٹل کی انتظامیہ کی طرف سے بار بار پیغام آنے لگا کہ بوفے کے لئے جلد از جلد نیچے آئیں۔ ہم تمام بزم امروز کے ساتھی دوبارہ لفٹ کے زریعے نیچے آئے۔

بوفے میں کھانے پینے کی اتنی ذیادہ ورائٹیز دیکھ کر ہی ہماری بھوک ہی ختم ہوگئی۔ مگر پھر بھی چند آئٹمز ضرور تناول کیں۔ تین چار گروپ ممبرز نے توکھانے سے خوب خوب انصاف کیا۔ کھانے کے ساتھ ساتھ گپ شپ بھی جاری رہی۔ دوست بزم امروز کے غیر حاضر دوستوں جن میں ارباب بزمی۔ سید موج دریا۔ ایس ایس اے حیدر۔ وحید احمد تبسم۔ نوید احمد۔ ساجد شیخ۔ عمر فاروق ناز۔ سید علی زوا لقرنین۔ بشیر احمد۔ وسیم بن اشرف۔ جاوید احمد۔عامر شہزاد وغیرہ کا بھی زکر ہوتارہا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دیپالپور کے بھائی اختر جاوید بہت زیادہ ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت فلیکسز لائے۔ اتنی خوب صورت فلیکسز دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔اختر بھیا نے سب فلیکسز وہیں گروپ ممبرز کو گفٹ کر دیں۔ ایک خوبصورت لمحہ جب آیا کہ شمع محفل رانا گلزار المعروف مسٹر گوادر کی طرف سے شکیل عادل کو پانچ مرلےکا پلاٹ دیا گیا۔ یہ گفٹ رانا گلزار نے سب کے دلوں کے جانی فضل فانی کے ہاتھوں شکیل عادل کو دیا۔ ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب رانا گلزار نے پلاٹ دینے کا اعلان کیا تھا اس وقت اس پلاٹ کی قیمت سات لاکھ تھی اوراس وقت اس پلاٹ کی قیمت دس لاکھ روپے ہے۔ پھر ہوٹل میں ہی نعرہ بازی شروع ہو گئی بزم امروز زندہ باد، بزم امروز زندہ باد، پرنس افضل شاہین نے نعرہ لگایا گوادر پلاٹ زندہ باد یہ نعرہ سن کر تمام دوست قہقہہ لگانے پر مجبور ہو گئے۔ اس اجلاس کے دوران تمام دوست اپنے اپنے موبائل فون سے تصاویر اور ویڈیوز بھی بناتے رہے۔
تصاویر اور ویڈیوز بنوانے میں سب سے اہم کردار اے ٹی الفا کے فاروق ندیم کا رہا۔ فاروق ندیم نے اپنے بیٹے کی ڈیوٹی ہی تصاویر اور ویڈیوبنانے پر لگائی تھی۔ بزم امروز کے ہر اجلاس میں ان کی بنائی ہوئی ویڈیوز اور تصاویر شاندار ہوتی ہیں ۔ فاروق ندیم بھیا کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہر گروپ ممبر کو بلا امتیاز کرسیوں پر بٹھا بٹھاکر تصاویر اور ویڈیوز بنواتے ہیں ۔ اور یہ تمام شاہکار تصاویر اور ویڈیوز بزم امروز گروپ اور فیس بک پر بھی پوسٹ کرتے ہیں۔ انڈیگو ہوٹل سے باہر آکر پھر سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مجھے بار بار میرے دوستوں کا فون آرہا تھا کہ جلدی پہنچو ہم ٹھوکر نیاز بیگ پر تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ حسب معمول سب کے دلوں کے جانی فضل فانی فیس بک پر لائیو ہوگئے۔ میں اور اختر جاوید رکشے والے سے ٹھوکر نیاز بیگ جانے کے لئے بارگیننگ کر رہے تھے کہ فانی بھیا کی نظر ہم پر پڑ گئی ہمیں کہا آپ لوگ کہیں نہیں جاؤ گے۔

ثمرینہ جمال ثمربہن نہیں آئیں اس لئے ان پر جرمانہ ہو گا اور وہ بینظیر قلفہ ہم سب کو کھلائیں گی۔ جو کہ ساتھ میں ہی دستیاب ہے۔ آئینہ مثال نے کہا کیوں نہیں جی آپی ثمر آئیں گی اور قلفہ کھلائیں گی۔ سچ پوچھیں تو بچپن کے دوستوں سے بچھڑنے کو دل ہی نہیں کررہا تھا۔ اختر جاوید اور میں نے دوستوں سے نظریں بچائیں اور بہت خوبصورت اور دلکش یادیں لے کر رکشے میں بیٹھ کر ٹھوکر نیاز بیگ کی طرف روانہ ہو گئے۔ بےنظیر قلفہ کھانے والے دوست رابطہ میں رہے۔ بعد میں آپی ثمرینہ جمال ثمر بھی آ گئی تھیں پھر تمام بچپن کے دوستوں نے بےنظیر قلفے کے ساتھ خوب خوب انصاف کیا۔ میری دعا ہے کہ میرے یہ تمام بچپن کے دوست ہمیشہ خوش وخرم رہیں- (آمین)